Book Review: Shehrzad (By Saima Akram Chaudhary)

آپ لوگوں نے  سمیرا شریف طور کا “ٹوٹا ہوا تارا” پڑھا ہے؟

یا پھر عفت سحر پاشا کا پچھلے سال کا   “خواب شیشے کا” پڑھا ہوگا؟ اگر نہیں پڑھا  تو اچھی بات ہے۔ شہرزاد پڑھ لیں۔ اگر یہ دونوں ناول پڑھ رکھے ہیں، تو ابھی سے بتادوں کہ  کافی مماثلت نظر آئے گی۔

اور میں ساری کہانی کا بھانڈا پھوڑنے والی ہوں، اس لیے اگر چاہیں تو ابھی سے خدا حافظ کہہ کر براؤزر بند کر دیں۔

کہانی یہ ہے کہ ایک میر فیملی ہے، جو کافی کرپٹ ہے، سیاست کے علاوہ اور بھی کئی “خراب” کاموں میں ملوث ہیں۔

اور ایک ہادی ہے، جس کی امی وکیل ہیں۔ اور شامت کا مارا ہادی میر فیملی کے پڑوس میں  رہائش پذیر ہے۔

اور ایک شہرزاد کی فیملی ہے۔اس کا ایک ہمزاد ہے، جو ہمہ وقت اس سے فون پر رابطے میں ہوتا ہے، کیونکہ اسے اور کوئی کام نہیں ہے۔

اب شروع ہوتی ہے اصل کہانی۔

کہانی کا اصل دارومدار محبت کا مثلث اور ذو اربعتہ الاضلاع ہے۔Love triangles and quadrilaterals.

یقین نہ آئے تو سنیے۔ بہت ساری جوڑیاں ہیں، جس میں سے ایک شامت کی ماری جوڑی صرف جوڑی ہے۔ رومیصہ اور ارسل۔

شاہ میراورطوبیٰ  ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور نمیرہ شاہ میر سے منگنی کا سوچ کر خوش ہو جاتی ہے۔

برہان اور انابیہ نکاح شدہ ہیں، برہان اپنی کولیگ مناہل کو پسند کرتے ہیں،۔ مناہل ہادی کی کزن ہے، اور ہادی کا دوست سعد بھی مناہل  کو پسند کرنے لگتا ہے۔

شہرزاد اور اس کے ہمزاد  حمزہ کے علاوہ ایک پولس آفیس ارتضیٰ بھی شہرزاد کا عاشق ہے۔ لڑکی ہے ہی اتنی اچھی۔

درشہوار ہادی کے عشق میں گرفتار ہو جاتی ہے ، جو کہ اپنے دوست حمزہ کی بہن حریم کو پسند کرتا ہے۔ حریم کو رمیز پسند ہے اور دونوں کی شادی ہونے والی ہے۔

میرا مسئلہ یہ ہے کہ ہر کوئی آپس میں ہی ریلیٹیڈ کیسے  ہے؟ ہر کیریکٹر گھوم پھر کر اسی  میر خاندان  کا حصہ نکلا۔ وہ تو خیر ہوئی کہ حمزہ اور سعد صرف دوست رہے، ورنہ وہ بھی کہیں سے رشتہ دار نکل آتے۔ اف اللہ۔۔۔

بہت جگہ املا کی غلطی ہے۔ اور نام کی ادلا بدلی۔ کہیں شاہ میر کو برہان بنا دیا اور میں حیران کہ آکر طوبیٰ برہان کے گلے کیوں لگ رہی ہے۔ کہیں وہاج کے مرنے کے بعد ارسل کو وہاج لکھ دیا اور میں حیران کہ ابھی تو اس کی تدفین ہوئی تھی۔ خیر۔۔۔

میر فیملی

محتشم اور بیوی تاجدار کے چار بچے ہیں۔ وہاج، برہان۔ شاہ میر اور درشہوار۔ اس میں سے وہاج شادی شدہ لیکن آوارہ ہے۔ برہان آوارہ تو نہیں، لیکن نکاح شدہ ہوتے ہوئے کسی اور کو پسند کیے بیٹھا ہے۔

خاقان  کی دو بیویاں ہیں۔ زارقہ بیگم سے دو بیٹیاں انابیہ اور طوبیٰ۔ ندرت بیگم سے نمیرہ۔

ایک اور بیٹا ذوالکفل ہے، جو خاندان سے باہر شادی کرنے کی وجہ سے خاندان سے نکال دیا گیا ہے۔ اور اس کا بیٹا دراصل قریشی فیملی کے گھر پلا ہے۔ جس کا نام ہے ہادی۔۔۔

جی ہاں۔ ہادی میر فیملی کا حصہ ہے۔

اور خاقان صاحب کی پہلی بیوی دراصل شہرزاد کی امی ٹینا تھیں۔ یعنی وہ بھی  ایک میر ہے۔ لو جی بھئی۔

باقی تفصیلات کے لیے آپ کہانی پڑھ لیجیے۔ جس میں ایک ریپ، ایک مسلم کرسچین کا جھگڑا، اور کچھ شہرزاد پر ہونے والے حملے ہیں۔

“ٹوٹا ہوا تارا ” سے مماثلت یہ ہے کہ اس میں بھی سب گھوم پھر کر کزن ہی نکلے تھے۔ “خواب شیشے کا”  میں فون پر بڑا عشق لڑایا گیا تھا۔

مجھے پتہ نہیں کیوں لگا کہ تینوں ناول – شہرزاد ، ٹوٹا ہوا تارا اور خواب شیشے کا، کسی ایک ہی لکھاری نے لکھا ہے۔  اب سوچ ہی ہے، اس پر کیسے قابو کریں؟

اور ناول صرف شہرزاد کے بارے میں نہیں، تو پھر نام بھی کچھ اور ہونا چاہیے تھا۔ خیر۔۔۔

Your comments and opinion matter. Please leave a message. Cheers!