Book Review: Tere Liya Hai Mera Dil (By Farhat Ishtiaq): Urdu Review

 اجالا روزانہ پارک میں واک کے لیے جاتی ہے، جہاں اس کی ملاقات مبشر لودھی سے ہوتی ہے۔ مبشر ایک عمر رسیدہ اور دوستانہ مزاج کے شخص ہیں جو دھیرے دھیرے اجالا سے دوستی کر لیتے ہیں۔

کچھ عرصہ بعد جب وہ بیمار ہوتے ہیں تو اجالا ان سے ملنے کے لیے ہسپتال جاتی ہے جہاں اس کی ملاقات مبشر کے پوتے اویس سے ملتی ہے۔ شروعات میں اویس مغرور سا لگتا ہے اور اجالا کو غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ اویس کو اس کی اپنے گھر آمد و رفت پسند نہیں ہے۔ لیکن اویس تو ہیرو ہے۔ اس لیے اگلی بار وہ اس سے ملاقات کرنے کے لیے جم جانا بھی کینسل کر دیتا ہے۔

پھر اویس اور مبشر یورپ ٹور اور عمرہ پر چلے جاتے ہیں اور پیچھے اجالا ان دونوں کو بہت مس کرتی ہے۔ واپسی پر جب باتوں باتوں میں وہ دونوں اجالا کے گھر جانے کی بات کرتے ہیں تو وہ صاف منع کر دیتی ہے۔

اور پھر ایک جذباتی اور ابنارمل سے بریک ڈاؤن کے بعد ہمیں اجالا کی ٹریجڈی پتہ چلتی ہے۔

ٹریجڈی کوئی دنیا سے نرالی نہیں ہے۔ وہی گھسی پٹی کہانی جس میں اجالا ان چاہی بیٹی ہے کیوں کہ اس کی دو بڑی بہنیں ہیں۔ اجالا اور سعود جڑواں ہیں۔ لڑکا ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بچپن میں کمزور بھی تھا۔ لہٰذا ظاہر ہے کہ سعود کو ساری توجہ ملتی ہے۔ اجالا بری طرح اگنور ہوتی ہے، یہاں تک کہ اس کی نانی اسے اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔

آٹھ سال بعد نانی کے انتقال کے بعد جب اجالا گھر آتی ہے تو اپنی ہی فیملی کے درمیان اجنبیت محسوس کرتی ہے۔

اس کی بڑی بہنوں کی شادی ہو چکی ہے۔ سعود کی بیوی ماریہ اور اجالا سے چھوٹی دعا چڑیلوں سے کم نہیں ہیں۔ وہ بات بے بات اس کا مذاق اڑاتی ہیں اور توہین آمیز رویہ اختیار کرتی ہیں۔ ماریہ اپنے نوزائیدہ بیٹے کی موت کا زمہ دار اجالا کو ٹھہراتی ہے۔ اور یہی الزام اجالا کو ڈپریس کر دیتا ہے۔

مبشر اسے صبر و تحمل سے کام لینے کی تاکید کرتے ہیں، جب کہ اویس اسے معافی و درگزر کی بجائے اپنا حق چھین لینے کا سبق دیتا ہے۔ اب ذرا تکلف کی دیواریں گر چکی ہیں۔ رومانس کی آمد آمد ہے۔

مبشر کی برتھ ڈے پر ان کے ساتھ اچھا سا وقت گزارنے کے بعد وہ دونوں اسے واپس چھوڑنے آتے ہیں تو سعود سے ملاقات ہو جاتی ہے۔ سعود جی جان سے جی حضوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ “گروپ آف انڈسٹریز” ہے تو امیر تو ہوں گے نا۔ بس لالچ۔۔۔میں نے ہمیشہ امیر فیملی کا گروپ آف انڈسٹریز ہی پڑھا ہے۔ ایک بزنس نہیں ہوتا۔ جی بھر کر امیر ہوتے ہیں۔

اویس میں پتہ نہیں کیوں دیوارِ شب کے سالار کی ہلکی سی جھلک نظر آئی۔ شاہد ابھی حال ہی میں پڑھا ہے، یہی وجہ ہے کہ دونوں کرداروں میں مماثلت محسوس ہوتی ہے۔

ایک دن اجالا ان کے گھر آتی ہے تو دادا پوتا میچ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ بور ہو کر اجالا کیا کرتی ہے؟ کچن میں جا کر کھانا بنانے لگتی ہے۔ میں ہوتی تو وہیں رک کر کھیل کو سمجھنے کی کوشش کرتی۔ اور ایک گھنٹہ کے وقت میں وہ چکن کڑھائی، ویجٹبل رائس، سلاد  بنا لیتی ہے۔یہاں تودال چاول اور سبزی بنانے میں جان نکل جاتی ہے۔ کاش کہ میں اتنی سلیقہ مند اور سگھڑ ہوتی۔

یہی نہیں، وہ لگے ہاتھوں  براؤنیز بیک کر لیتی ہے۔ اگر آپ نے ماسٹر شیف دیکھا ہو تو پتہ ہوگا کہ ایک ڈیڑھ گھنٹے کے چیلنج میں اگر کچھ بیکنگ وغیرہ کا کام ہو تو  سارا وقت وہ لوگ مصروف ہوتے ہیں۔ اجالا نے ساتھ میں تین چیزیں اور بھی بنا لیں۔ اسے ماسٹر شیف میں جانا چاہیے۔ سب کی چھٹی کر دے گی۔

اجالا اور اویس کی انڈرسٹینڈنگ ہونے لگی ہے۔ ان کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے مبشر اویس کا رشتہ لے کر جاتے ہیں۔ لیکن دعا الٹی سیدھی باتیں کر کے اجالا کو اویس سے بدظن کر دیتی ہے۔ وہی الزامات کے وہ دل پھینک ہے، کسی شرط کے لیے تمہارے قریب آیا ہے۔ اجالا صاحبہ اپنی اس بہن کی بات مان لیتی ہیں جنہوں نے کبھی سیدھے منہ اس بات نہیں کی۔ یہاں مجھے لگا کہ conflict تھوڑا نیا اور مختلف ہونا چاہیے تھا۔ بہن، اتنے کچے کان کی ہیروئن کب تک چلے گی؟

بہر حال، مبشر صاحب پھر سے ہسپتال پہنچ جاتے ہیں اور اجالا ان سے ملنے جاتی ہے۔ گلے شکوے ہوتے ہیں، اور غلط فہمیاں دور ہو جاتی ہیں۔

آخر میں مبشر صاحب کے POV میں پتہ چلتا ہے کہ بیماری اور ہسپتال وغیرہ ان کا ناٹک تھا تاکہ اویس اور اجالا ایک بار ملاقات کر کے اپنے مسائل حل کر لیں۔ ایسا بھی ہر بار ہی ہوتا ہے۔

کہانی پڑھ کر آپ کو ہنسی آئے گی، ہیرو ہیروئن اچھے بھی لگیں گے۔ ہیروئن کی حالت پر رونا بھی آئے گا لیکن کہانی کہیں بھی چونکا دینے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ ایسی کوئی نئی بات نہیں، جو آپ نے پہلے نہ پڑھی ہو۔ وقت گزاری کے لیے اچھی کہانی ہے۔ اگر آپ نہ چڑھے اور نکتہ چین قسم کے انسان ہیں، اور پہلے ہی چڑچڑاہٹ کا شکار ہیں تو نہ پڑھیں۔ مزید غصہ آئے گا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میرے ساتھ یہی ہوا۔ اس لئے تو اپنی زبان میں تبصرہ لکھا ہے۔ ورنہ عموماً تو انگریزی میں لکھنے کی کوشش ہوتی ہے۔

یہ میری ناقص رائے ہے۔ اگر کوئی محترم یا محترمہ اس سے متفق نہ ہوں تو پیشگی معزرت۔ ہماری پسند نا پسند الگ ہو سکتی ہے۔

بہت ہو گیا۔ فقط والسلام۔ شبانہ مختار۔

Your comments and opinion matter. Please leave a message. Cheers!