Unwritten #001


Date: 14-Sep-2019

Origin: Dream

Status: Dormant

May Return: Possibly

ٹائٹل: لہو کا رنگ

Theme: International Espionage

آخر میں

لہو کا رنگ ایک ہے امیر کیا غریب کیا بنے ہیں ایک خاک سے تو دور کیا قریب کیا

بیچ میں پوری نظم

خون اپنا ہو یا کہ غیروں کا
نسل آدم کا خون ہے آخر

شروعات

یٰسٓۚ (1) وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ (2) اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ (3)
راج کی انکھ کھلی تو ایک غیر مانوس اواز ایک غیر مانوس زبان میں کچھ کہہ رہی تھی یا پڑھ رہی تھی۔ انداز ٹھہرا ہوا، اواز پرسکون تھی اور الفاظ تواتر سے ادا ہو رہے تھے۔

اس نے ہچکچاتے ہوئے انکھ کھولی۔ ایک عمر رسیدہ شخص کھڑکی کے پاس بیٹھا ہوا ایک دبیز سی کتاب پڑھ رہا تھا۔ چہرے کا بایاں حصہ تھوڑا سا نظر آ رہا تھا سفید خشخشی داڑھی ،گیہوں رنگ، سر پر ٹوپی لگائے، سرمئی رنگ کا کرتا پاجامہ پہنے ہوئے تھا۔

یہ ساری تفصیل راج نے ایک نظر میں بھانپ لی تھی۔ جاسوس تھا ،ایک جھلک میں نظروں ہی نظروں میں تصویر سی بنا لینا اور ساری جزئیات یاد رکھ لینا اس کے پیشے کی مانگ تھا۔

یہ شاید قران پڑھ رہا ہے یعنی میں فی الحال پاکستان میں ہوں ایک گہری سانس بھی ساختہ اس کے سینے سے خارج ہوئی تھی۔

 

 

Related Work: This idea eventually evolved into: Narrative Fragment #NNN

~~~

Shabana Mukhtar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *