Timeless Tales #002 | The Emperor’s New Clothes شہنشاہ کے نئے کپڑے | Hans Christian Andersen

 

شہنشاہ کے نئے کپڑے


بہت عرصہ پہلے ایک بادشاہ تھا جسے نئے کپڑوں کا اس قدر شوق تھا کہ وہ اپنا سارا خزانہ لباس پر خرچ کر دیتا تھا۔

اسے نہ اپنی فوج کی فکر تھی، نہ تھیٹر کی، نہ شکار کی سیر کا شوق تھا۔ اگر کسی چیز میں اسے حقیقی خوشی ملتی تھی تو وہ تھی نئے کپڑے پہننا۔

اس کے پاس دن کے ہر گھنٹے کے لیے الگ لباس موجود تھا۔

دوسرے بادشاہوں کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ وہ دربار میں ہیں، لیکن اس بادشاہ کے بارے میں لوگ کہا کرتے تھے:

“وہ اپنے کپڑے بدلنے کے کمرے میں ہے۔”

ایک دن اس شہر میں دو اجنبی آئے۔

انہوں نے خود کو ماہر بُنکر ظاہر کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ ایسا شاندار کپڑا تیار کر سکتے ہیں جو دنیا میں کہیں اور نہ ملے۔

لیکن اس کپڑے کی ایک عجیب خصوصیت بھی تھی۔

وہ صرف انہی لوگوں کو نظر آتا جو اپنے عہدے کے لائق اور سمجھدار ہوں۔

جو شخص بے وقوف ہو یا اپنے منصب کے قابل نہ ہو، اسے یہ کپڑا بالکل دکھائی نہ دے۔

بادشاہ نے یہ سنا تو دل ہی دل میں بہت خوش ہوا۔

“یہ تو کمال کی چیز ہے!” اس نے سوچا۔

“اگر میرے پاس ایسا لباس ہو تو میں فوراً جان سکوں گا کہ میرے دربار میں کون نالائق ہے اور کون عقل مند۔”

چنانچہ اس نے ان دونوں بُنکروں کو بڑی رقم دی اور حکم دیا کہ فوراً کام شروع کیا جائے۔

دونوں دھوکے بازوں نے دو بڑے کھڈی نما فریم لگا دیے اور کام میں مصروف ہونے کا ڈھونگ رچانے لگے۔

مگر حقیقت یہ تھی کہ ان کے پاس نہ دھاگا تھا نہ کپڑا۔

پھر بھی وہ مسلسل مصروف نظر آتے، ہاتھ چلاتے، قینچی استعمال کرتے اور یوں ظاہر کرتے جیسے کوئی نہایت نفیس کپڑا تیار ہو رہا ہو۔

بادشاہ اکثر سوچتا کہ جا کر دیکھے کام کہاں تک پہنچا، لیکن پھر اسے یاد آتا کہ بے وقوف لوگ تو اس کپڑے کو دیکھ ہی نہیں سکیں گے۔

اگرچہ اسے اپنے بارے میں پورا یقین تھا، پھر بھی اس نے مناسب سمجھا کہ پہلے کسی اور کو بھیجا جائے۔

آخرکار اس نے اپنے ایک عمر رسیدہ اور معزز وزیر کو بلایا۔

“جائیے اور دیکھ کر آئیے کہ کپڑا کیسا بن رہا ہے،” بادشاہ نے کہا۔

“آپ سمجھدار بھی ہیں اور اپنے منصب کے لیے موزوں بھی۔ یقیناً آپ اسے اچھی طرح دیکھ سکیں گے۔”

وزیر بُنکروں کے پاس پہنچا۔

اس نے کھڈیوں کی طرف غور سے دیکھا۔

لیکن وہاں تو کچھ بھی نہ تھا۔

وزیر کی آنکھیں پھیل گئیں۔

“یا خدا!” اس نے دل میں سوچا۔

“مجھے تو کچھ بھی نظر نہیں آ رہا!”

مگر اس نے یہ بات زبان پر نہ آنے دی۔

دھوکے باز بُنکروں نے وزیر کو قریب بلایا۔

کیا ہی خوبصورت نقش و نگار ہیں!” ایک نے کہا۔”

اور یہ رنگ! کیا آپ نے کبھی اتنے دلکش رنگ دیکھے ہیں؟” دوسرے نے پوچھا۔”

پھر وہ ہوا میں اشارے کرتے ہوئے فرضی کپڑے کے نمونے دکھانے لگے۔

بوڑھے وزیر نے اپنی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کی، مگر اسے کچھ نظر نہ آیا، کیونکہ وہاں واقعی کچھ تھا ہی نہیں۔

یا اللہ!” اس نے دل میں کہا۔”

“کیا میں واقعی بے وقوف ہوں؟ میں نے تو کبھی ایسا نہیں سوچا تھا۔ اور اگر یہ بات دوسروں کو معلوم ہو گئی تو؟”

مگر بُنکر اس کے جواب کے منتظر تھے۔

:چنانچہ وزیر نے سر ہلاتے ہوئے کہا

“بے شک! نہایت شاندار! رنگ بھی لاجواب ہیں اور نقش بھی بے مثال!”

دھوکے باز خوش ہو گئے اور فوراً کپڑے کی ایسی ایسی تفصیلات بیان کرنے لگے جو وجود ہی نہیں رکھتی تھیں۔

وزیر نے سب کچھ غور سے یاد کر لیا تاکہ واپس جا کر بادشاہ کو بتا سکے۔

جلد ہی بُنکروں نے مزید ریشم اور سونا طلب کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کپڑا تقریباً تیار ہو چکا ہے۔

بادشاہ نے انہیں مزید دولت فراہم کر دی۔

مگر حسبِ معمول، سارا ریشم اور سارا سونا ان کی اپنی جیبوں میں چلا گیا۔

کچھ عرصے بعد بادشاہ نے ایک اور درباری کو بھیجا۔

اس کے ساتھ بھی وہی ہوا۔

اسے بھی کچھ نظر نہ آیا۔

اس نے بھی دل میں خوف محسوس کیا۔

اور اس نے بھی واپس جا کر کپڑے کی بے حد تعریف کی۔

اب پورے شہر میں اس عجیب و غریب کپڑے کی شہرت پھیل چکی تھی۔

ہر شخص اس کے بارے میں بات کر رہا تھا۔

ہر کوئی جاننا چاہتا تھا کہ آخر کون اپنے منصب کے لائق ہے اور کون نہیں۔

آخرکار بادشاہ نے خود فیصلہ کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ جا کر اس معجزاتی کپڑے کو اپنی آنکھوں سے دیکھے۔

اپنے چند معزز درباریوں کے ساتھ وہ بُنکروں کی ورکشاپ میں پہنچا۔

دونوں دھوکے باز پہلے کی طرح مصروف دکھائی دے رہے تھے۔

وہ خالی کھڈیوں پر جھکے ہوئے تھے اور بڑے انہماک سے کام کرنے کا ناٹک کر رہے تھے۔

“کیا حضور کو رنگ پسند آئے؟”

“اور یہ نقش و نگار؟”

وہ پوچھتے جاتے تھے۔

بادشاہ نے کھڈی کی طرف دیکھا۔

مگر اسے کچھ نظر نہ آیا۔

اس کا دل دھک سے رہ گیا۔

“مجھے کچھ کیوں نظر نہیں آ رہا؟” بادشاہ نے دل میں سوچا۔

“یہ تو بڑی خوفناک بات ہے! کیا میں بے وقوف ہوں؟ یا پھر بادشاہ بننے کے لائق نہیں؟”

اسے اپنی زندگی میں کبھی کسی چیز سے اتنا خوف نہیں آیا تھا۔

مگر اس نے فوراً کہا:

“بہت خوب! نہایت شاندار!”

اور سر ہلا کر تعریف کرنے لگا، گویا وہ واقعی اس حیرت انگیز کپڑے کو دیکھ رہا ہو۔

اس کے ساتھ آئے ہوئے درباری بھی کھڈیوں کی طرف دیکھتے رہے۔

انہیں بھی کچھ نظر نہ آیا۔

لیکن کسی میں سچ بولنے کی ہمت نہ تھی۔

چنانچہ سب نے یک زبان ہو کر کپڑے کی تعریف کی۔

دھوکے بازوں کو حکم دیا گیا کہ شاہی جلوس کے لیے یہی لباس تیار کیا جائے۔

جلوس سے ایک رات پہلے دونوں بُنکر رات بھر کام کرتے دکھائی دیتے رہے۔

انہوں نے موم بتیاں جلا رکھی تھیں اور یوں ظاہر کر رہے تھے جیسے وہ بڑی محنت سے لباس مکمل کر رہے ہوں۔

صبح بادشاہ اپنے درباریوں کے ساتھ لباس پہننے آیا۔

دھوکے بازوں نے جھک کر خیالی لباس اٹھایا اور کہا:

“یہ شلوار ہے۔”

“یہ قمیص ہے۔”

“اور یہ شاہی چغہ ہے۔”

وہ ہوا میں ہاتھ چلاتے رہے جیسے واقعی کوئی لباس موجود ہو۔

پھر انہوں نے کہا:

“یہ لباس پرندے کے پر کی طرح ہلکا ہے۔ پہننے والا محسوس بھی نہیں کرے گا کہ اس نے کچھ پہن رکھا ہے۔”

“واقعی!” درباریوں نے کہا، اگرچہ انہیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

بادشاہ نے اپنے کپڑے اتار دیے۔

دھوکے بازوں نے اسے ایک ایک کر کے خیالی لباس پہنایا۔

آخر میں اسے ایک بڑے آئینے کے سامنے کھڑا کر دیا گیا۔

“حضور پر یہ لباس کتنا جچ رہا ہے!”

“کیا شان دار نقش و نگار ہیں!”

درباری تعریف پر تعریف کیے جا رہے تھے۔

بادشاہ نے آئینے میں دیکھا۔

اسے بھی کچھ نظر نہ آیا۔

مگر اب واپس مڑنے کا کوئی راستہ نہ تھا۔

چنانچہ اس نے بھی سر ہلایا اور لباس سے اپنی خوشنودی ظاہر کی۔

جلوس شروع ہوا۔

بادشاہ شہر کی گلیوں میں نکلا۔

لوگوں نے اسے دیکھا۔

مگر کسی نے سچ کہنے کی جرأت نہ کی۔

کیونکہ ہر شخص کو ڈر تھا کہ اگر اسے لباس نظر نہیں آ رہا تو شاید وہ بے وقوف ہے یا اپنے کام کے قابل نہیں۔

“کیا خوبصورت لباس ہے!”

“کیا شاندار چغہ ہے!”

لوگ ایک دوسرے سے کہتے رہے۔

بادشاہ یہ تعریفیں سن کر خوش ہوتا رہا۔

پھر اچانک مجمعے میں ایک چھوٹے بچے کی آواز بلند ہوئی۔

“لیکن بادشاہ نے تو کچھ پہنا ہی نہیں!”

ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔

پھر کسی نے اپنے پڑوسی سے کہا:

“بچے نے کیا کہا؟”

اور دیکھتے ہی دیکھتے وہی جملہ پورے ہجوم میں پھیل گیا۔

“بادشاہ نے کچھ نہیں پہنا!”

“بادشاہ ننگا ہے!”

لوگ سرگوشیاں کرنے لگے۔

پھر سرگوشیاں آوازوں میں بدل گئیں۔

اور آخرکار پورا مجمع یہی پکارنے لگا:

“بادشاہ نے کچھ نہیں پہنا!”

بادشاہ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔

وہ جانتا تھا کہ لوگ سچ کہہ رہے ہیں۔

مگر اب جلوس روکنا ممکن نہ تھا۔

چنانچہ وہ پہلے سے زیادہ اکڑ کر چلتا رہا، جبکہ اس کے خادم اس چغے کا پچھلا حصہ اٹھانے کا ناٹک کرتے رہے جو حقیقت میں موجود ہی نہیں تھا۔

 

NOTE: The original text is in the public domain worldwide. Translation, annotations, and formatting may include AI-assisted drafting, with final review and editing by the publisher.

Shabana Mukhtar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *