
برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الّو کافی تھا
ہر شاخ پہ الّو بیٹھا ہے، انجام گلستاں کیا ہوگا
جب سکول میں تھے تو ہر تقریری مقابلے میں ایک دو بار یہ شعر سننے کو ملتا تھا۔ اور میں ایک گہری سانس لے کر رہ جاتی تھی۔ کیا کہہ رہے ہیں، کیوں کہہ رہے ہیں، کچھ سمجھ نہیں آتا تھا۔ خاص طور پر یہ شعر۔ اب سمجھا ہے، مگر اس طرح نہیں جیسا شاعر نے سوچا تھا۔
میرے حالیہ پروجیکٹ کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔
ایک منیجر ہے جو صرف اتنا سیکھ کر آیا ہے
We are on top of things.
کوئی اسے دو روپیہ دے تاکہ وہ دو نئے منیجمنٹ جارگنز سیکھ سکے۔ وہی جملہ سن سن کر کان پک گئے ہیں۔
ایک ڈائریکٹر ہے جو کہتا ہے کام شروع کرنے سے پہلے سیکھو، پڑھو،سرٹیفیکیشن کرو۔
اسے کچھ نہیں کہنا میں نے۔بات کرنی اتنی مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی جتنی اس کے ساتھ ہے۔
-ایک سینیئر ڈائریکٹر ہے جو کہتا ہے نئے شروع ہونے والے کام کے بارے میں کہتا ہے
I wanted this three weeks ago.
اسے میں کہنا چاہتی ہوں، چچا، دماغ ٹھیک ہے نا؟ کسی اور پر تپے ہو تو مجھ پر غصہ نہ نکالو۔
ایک سینیئر منیجر ہے جو بات کو سمجھتا ہے مگر دانستہ طور پر خود کو ہمارے پروجیکٹ سے دور رکھ رہا ہے۔ اللہ جانے کس وجہ سے۔
اور رہے ہم ڈیویلپرزتو ۔
we’re so out of our depths
ایک کام کو کرنے میں سال نکال دیتے ہیں اور ہٹ دھرمی ایسہ اللہ معافی۔ اللہ مالک ہے اس پروجیکٹ کا۔
وہ کہتے ہیں نہ اللہ بنائے جوڑی ایک اندھا ایک کوڑھی۔ یہاں وہ ماجرہ بھی نہیں ہے۔ آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ اللہ رحم کرے۔
~~~
- Subscribe to my blog.
- Find my books on Amazon.
- Show some love!
Shabana Mukhtar
