
ایک امیر آدمی کی بیوی بیمار پڑی، اور جب اسے محسوس ہوا کہ اس کا آخری وقت قریب ہے تو اس نے اپنی اکلوتی بیٹی کو اپنے بستر کے پاس بلایا اور کہا:
“پیار ی بچی، نیک اور پاکیزہ رہنا، تو خدا ہمیشہ تیری مدد کرے گا، اور میں آسمان سے تجھ پر نظر رکھوں گی اور تیرے پاس رہوں گی۔”
یہ کہہ کر اس نے آنکھیں بند کر لیں اور دنیا سے رخصت ہو گئی۔
لڑکی ہر روز اپنی ماں کی قبر پر جاتی، روتی اور دعا کرتی، اور وہ ہمیشہ نیک اور پاکیزہ رہی۔ جب سردیاں آئیں تو برف نے قبر پر سفید چادر بچھا دی، اور جب بہار کی دھوپ نے اس چادر کو پگھلا دیا تو اس کے باپ نے دوسری شادی کر لی۔
نئی بیوی اپنے ساتھ دو بیٹیاں لائی۔ ان کے چہرے خوبصورت اور گورے تھے، مگر ان کے دل سیاہ اور بدصورت تھے۔ اسی دن سے اس بےچاری لڑکی کے لیے مصیبتوں کا آغاز ہو گیا۔
“کیا یہ بےوقوف لڑکی ہمارے ساتھ ایک ہی کمرے میں رہے گی؟” انہوں نے کہا۔ “جو روٹی کھائے، وہ کام بھی کرے۔ اسے باورچی خانے میں بھیج دو!”
انہوں نے اس کے اچھے کپڑے اتار لیے، اسے ایک پرانا سرمئی لباس پہنا دیا اور لکڑی کے جوتے دے دیے۔
“ذرا اس نازک شہزادی کو تو دیکھو!” وہ ہنس کر بولیں۔
پھر اسے باورچی خانے میں بھیج دیا گیا۔
وہ صبح سے رات تک سخت محنت کرتی۔ فجر سے پہلے اٹھتی، پانی بھر کر لاتی، چولہا جلاتی، کھانا پکاتی، برتن دھوتی اور گھر کے تمام مشکل کام انجام دیتی۔
اس پر بھی اس کی سوتیلی بہنیں اسے آرام سے نہ رہنے دیتیں۔ وہ اس کا مذاق اڑاتیں، اس پر مٹر اور دال پھینک دیتیں، تاکہ وہ راکھ میں بیٹھ کر ایک ایک دانہ چنتی رہے۔
رات کو جب وہ تھک ہار کر کام ختم کرتی تو اس کے لیے کوئی بستر نہ ہوتا۔ اسے چولہے کے پاس راکھ میں ہی لیٹنا پڑتا۔
چونکہ وہ ہمیشہ گرد آلود اور راکھ سے اٹی رہتی تھی، اس لیے سب نے اسے “ایشن پُٹل” یعنی سنڈریلا کہنا شروع کر دیا۔
ایک دن اس کے باپ کو کسی میلے میں جانا تھا۔ اس نے اپنی دونوں سوتیلی بیٹیوں سے پوچھا:
“میں تمہارے لیے کیا لے کر آؤں؟”
ایک نے کہا:
“خوبصورت کپڑے۔”
دوسری نے کہا:
“موتی اور قیمتی جواہرات۔”
پھر اس نے اپنی بیٹی سے پوچھا:
“اور تم، تمہارے لیے کیا لاؤں؟”
سنڈریلا نے جواب دیا:
“ابا جان، واپسی پر جو پہلی ٹہنی آپ کی ٹوپی سے ٹکرائے، وہ میرے لیے لے آئیے گا۔”
چنانچہ جب باپ واپس آ رہا تھا تو ایک ہیزل کے درخت کی شاخ اس کی ٹوپی سے ٹکرائی اور ٹوپی زمین پر گر گئی۔ اس نے وہ شاخ توڑ لی اور اپنی بیٹی کے لیے ساتھ لے آیا۔
گھر پہنچ کر اس نے سوتیلی بیٹیوں کو وہ چیزیں دیں جو انہوں نے مانگی تھیں، اور سنڈریلا کو وہ شاخ دے دی جو اس کی ٹوپی سے ٹکرائی تھی۔
سنڈریلا نے اپنے باپ کا شکریہ ادا کیا، شاخ کو لے جا کر اپنی ماں کی قبر پر لگا دیا اور اتنا روئی کہ اس کے آنسو اس شاخ کی جڑوں میں جذب ہو گئے۔ شاخ بڑھتی گئی اور ایک خوبصورت درخت بن گئی۔
سنڈریلا دن میں تین بار اس درخت کے پاس جاتی، اس کے نیچے بیٹھ کر روتی اور دعا کرتی۔ ہر بار ایک سفید پرندہ آ کر اس درخت پر بیٹھ جاتا، اور جب سنڈریلا کوئی خواہش کرتی تو وہ پرندہ اس کے لیے وہ چیز گرا دیتا جو وہ مانگتی۔
ایک دن بادشاہ نے اعلان کروایا کہ تین روزہ جشن منعقد ہوگا۔ ملک کی تمام خوبصورت نوجوان لڑکیوں کو دعوت دی گئی تاکہ شہزادہ ان میں سے اپنی دلہن کا انتخاب کر سکے۔
جب سوتیلی بہنوں نے سنا کہ انہیں بھی دعوت دی گئی ہے تو وہ خوشی سے پھول نہ سمائیں۔
انہوں نے سنڈریلا کو بلایا اور کہا:
“ہمارے بال سنوارو، جوتے صاف کرو اور لباس تیار کرو۔ ہم شاہی جشن میں جا رہے ہیں۔”
سنڈریلا نے سب کچھ کیا، مگر اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، کیونکہ وہ بھی جشن میں جانا چاہتی تھی۔
آخرکار اس نے اپنی سوتیلی ماں سے کہا:
“مجھے بھی ساتھ جانے دیجیے۔”
“تم؟” سوتیلی ماں نے کہا۔ “تم راکھ اور مٹی میں اٹی ہوئی ہو، اور جشن میں جانا چاہتی ہو؟ تمہارے پاس پہننے کو مناسب لباس بھی نہیں!”
پھر اس نے راکھ میں دال کے دانے بکھیر دیے اور کہا:
“اگر دو گھنٹوں میں یہ تمام دانے چن لو تو تم جا سکتی ہو۔”
سنڈریلا پچھلے دروازے سے باغ میں گئی اور پکارا:
“اے نرم فاختاؤں، اے کبوتر و،
اور اے آسمان کے سب پرندو،
آؤ اور میری مدد کرو،
اچھے دانے برتن میں،
برے دانے اپنی چونچ میں لو۔”
تب کھڑکی سے دو سفید فاختائیں اندر آئیں، پھر کبوتر، اور پھر آسمان کے تمام پرندے اتر آئے۔
وہ راکھ کے گرد جمع ہو گئے اور اپنی چونچوں سے دانے چننے لگے۔
تھوڑی ہی دیر میں تمام اچھے دانے برتن میں جمع ہو گئے۔
سنڈریلا خوشی خوشی برتن اٹھا کر سوتیلی ماں کے پاس لے گئی۔
مگر سوتیلی ماں کا ارادہ کبھی اسے ساتھ لے جانے کا تھا ہی نہیں۔
“نہیں،” اس نے کہا، “تمہارے پاس مناسب کپڑے نہیں ہیں۔ لوگ تم پر ہنسیں گے۔”
پھر اس نے پہلے سے بھی زیادہ دانے راکھ میں بکھیر دیے اور کہا:
“اگر ایک گھنٹے میں یہ سب چن لو تو تم جا سکتی ہو۔”
سنڈریلا دوبارہ باغ میں گئی اور پکارا:
“اے نرم فاختاؤں، اے کبوتر و،
اور اے آسمان کے سب پرندو،
آؤ اور میری مدد کرو،
اچھے دانے برتن میں،
برے دانے اپنی چونچ میں لو۔”
ایک بار پھر دو سفید فاختائیں کھڑکی سے اندر آئیں، پھر کبوتر، اور پھر آسمان کے سب پرندے۔
وہ راکھ کے گرد جمع ہو گئے اور تیزی سے دانے چننے لگے۔
ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں سارا کام مکمل ہو گیا۔
سنڈریلا برتن لے کر اپنی سوتیلی ماں کے پاس گئی، اس امید کے ساتھ کہ اب اسے جشن میں جانے کی اجازت مل جائے گی۔
مگر سوتیلی ماں نے کہا:
“اس سے کچھ نہیں ہوگا۔ تم ہمارے ساتھ نہیں جا سکتیں۔ تمہارے پاس پہننے کے لیے کپڑے نہیں ہیں اور تم ناچنا بھی نہیں جانتیں۔”
یہ کہہ کر وہ اپنی دونوں بیٹیوں کو لے کر روانہ ہو گئی۔
جب گھر میں کوئی نہ رہا تو سنڈریلا اپنی ماں کی قبر پر گئی اور درخت کے نیچے کھڑی ہو کر بولی:
“اے میرے پیارے درخت،
ذرا ہلو اور ذرا جھولو،
اور مجھ پر سونا چاندی برسا دو۔”
تب پرندے نے اس پر سونے اور چاندی سے بنا ہوا ایک شاندار لباس اور ریشمی جوتوں کا جوڑا گرا دیا۔
سنڈریلا نے وہ لباس پہنا اور جشن کی طرف روانہ ہو گئی۔
جب وہ محل میں داخل ہوئی تو سب لوگ حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔
وہ اتنی حسین لگ رہی تھی کہ کسی نے اسے پہچانا نہیں۔
یہاں تک کہ اس کی سوتیلی بہنوں نے بھی یہ نہ سوچا کہ یہ سنڈریلا ہو سکتی ہے۔ وہ یقین کیے بیٹھی تھیں کہ سنڈریلا تو گھر میں راکھ کے پاس بیٹھی ہوگی۔
شہزادہ فوراً اس کے پاس آیا، اس کا ہاتھ تھاما اور اس کے ساتھ رقص کرنے لگا۔
وہ کسی اور لڑکی کے ساتھ ناچا ہی نہیں۔
جب بھی کوئی اور اس سے رقص کی درخواست کرتا، وہ کہتا:
“یہ میری ساتھی ہے۔”
شام بھر وہ دونوں ساتھ رہے۔
آخرکار سنڈریلا نے گھر واپس جانے کا ارادہ کیا۔
شہزادہ اس کے ساتھ جانا چاہتا تھا تاکہ معلوم کر سکے کہ یہ خوبصورت لڑکی کون ہے۔
مگر سنڈریلا اس سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئی اور ایک کبوتر خانے میں جا چھپی۔
جب شہزادہ واپس آیا تو اس نے بادشاہ کو ساری بات بتائی۔
بادشاہ نے حکم دیا کہ کبوتر خانے کو توڑ دیا جائے۔
مگر اندر کوئی نہ تھا۔
جب سب لوگ گھر پہنچے تو انہوں نے سنڈریلا کو معمول کے میلے کپڑوں میں راکھ کے پاس بیٹھا ہوا پایا۔
چولہے میں ایک مدھم سا چراغ جل رہا تھا۔
کسی کو ذرا بھی شک نہ ہوا۔
کیونکہ سنڈریلا محل سے پہلے ہی نکل کر اپنی ماں کی قبر کے پاس گئی تھی، وہاں اس نے خوبصورت لباس اتار دیا تھا، اور پرندے نے اسے واپس لے لیا تھا۔
اگلے دن جب جشن دوبارہ شروع ہوا تو سوتیلی ماں اور اس کی دونوں بیٹیاں محل چلی گئیں۔
جوں ہی وہ روانہ ہوئیں، سنڈریلا اپنی ماں کی قبر پر گئی اور درخت کے نیچے کھڑی ہو کر بولی:
“اے میرے پیارے درخت،
ذرا ہلو اور ذرا جھولو،
اور مجھ پر سونا چاندی برسا دو۔”
اس بار پرندے نے اس کے لیے پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت لباس گرایا۔
سنڈریلا نے وہ لباس پہنا اور جشن میں جا پہنچی۔
جب لوگ اسے دیکھتے تو حیران رہ جاتے۔
پچھلی رات کی حسین دوشیزہ کے مقابلے میں وہ آج اور بھی زیادہ دلکش دکھائی دے رہی تھی۔
شہزادہ سارا وقت اسی کے ساتھ رقص کرتا رہا اور جب کوئی دوسرا اس کے قریب آنے کی کوشش کرتا تو وہ کہتا:
“یہ میری ساتھی ہے۔”
رات کے اختتام پر سنڈریلا دوبارہ واپس جانے لگی۔
شہزادہ اس کے پیچھے گیا، مگر وہ پھر اس کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
اس بار وہ باغ کے ایک ناشپاتی کے درخت پر چڑھ گئی۔
شہزادے نے ادھر ادھر بہت تلاش کیا مگر اسے نہ پا سکا۔
جب وہ گھر لوٹی تو حسبِ معمول اپنی ماں کی قبر کے پاس گئی، لباس واپس کر دیا، اور اپنے پرانے کپڑے پہن کر راکھ کے پاس جا بیٹھی۔
تیسرے دن جب جشن کا آخری دن آیا تو سنڈریلا ایک بار پھر قبر کے پاس گئی۔
“اے میرے پیارے درخت،
ذرا ہلو اور ذرا جھولو،
اور مجھ پر سونا چاندی برسا دو۔”
اس بار پرندے نے ایسا لباس گرایا جو پہلے دونوں لباسوں سے کہیں زیادہ شاندار تھا۔
اس کے جوتے خالص سونے کے تھے۔
جب وہ جشن میں پہنچی تو پورا دربار اس کی خوبصورتی دیکھ کر دنگ رہ گیا۔
شہزادہ اس کے سوا کسی کو دیکھتا تک نہ تھا۔
وہ بار بار اس کے ساتھ رقص کرتا اور جب کوئی دوسرا قریب آتا تو کہتا:
“یہ میری ساتھی ہے۔”
مگر اس مرتبہ شہزادے نے پہلے سے تیاری کر رکھی تھی۔
اس نے حکم دیا تھا کہ محل کی سیڑھیوں پر رال لگائی جائے۔
جب رات کے اختتام پر سنڈریلا بھاگنے لگی تو اس کے ایک پاؤں کا سنہری جوتا سیڑھی سے چپک گیا۔
وہ جلدی میں اسے وہیں چھوڑ کر بھاگ گئی۔
شہزادے نے جوتا اٹھایا۔
وہ چھوٹا، نفیس اور خالص سونے کا بنا ہوا تھا۔
اگلی صبح اس نے اعلان کیا:
“میں اسی لڑکی سے شادی کروں گا جس کے پاؤں میں یہ جوتا پورا آ جائے گا۔”
یہ سن کر سوتیلی بہنیں بہت خوش ہوئیں۔
ان کے پاؤں خوبصورت تھے، مگر اتنے چھوٹے نہیں تھے کہ جوتے میں سما سکیں۔
جب شہزادہ ان کے گھر آیا تو بڑی بہن اپنے کمرے میں گئی اور جوتا پہننے کی کوشش کی۔
اس کی انگلیاں جوتے میں نہیں سما رہی تھیں۔
تب اس کی ماں نے اسے ایک چھری دی اور کہا:
“انگلیاں کاٹ دو۔
جب تم ملکہ بن جاؤ گی تو پیدل تو چلنا نہیں پڑے گا۔”
بڑی بہن نے اپنی انگلیاں کاٹ ڈالیں، پاؤں جوتے میں گھسیڑا اور درد برداشت کرتے ہوئے باہر آ گئی۔
شہزادے نے اسے اپنی دلہن سمجھا اور اپنے گھوڑے پر بٹھا کر لے چلا۔
جب وہ ماں کی قبر کے پاس سے گزرے تو درخت پر بیٹھی دو سفید فاختاؤں نے گایا:
“دیکھو، دیکھو، جوتے میں خون ہے،
جوتا بہت تنگ ہے،
یہ حقیقی دلہن نہیں،
اصل دلہن ابھی گھر میں ہے۔”
شہزادے نے نیچے دیکھا۔
واقعی جوتے سے خون بہہ رہا تھا اور سفید جراب سرخ ہو چکی تھی۔
وہ فوراً واپس مڑا اور لڑکی کو گھر لے آیا۔
“یہ صحیح لڑکی نہیں ہے،” اس نے کہا۔
“کوئی اور بیٹی بھی ہے؟”
سوتیلی ماں نے جواب دیا:
“صرف ایک گندی سی سوتیلی لڑکی ہے، مگر وہ اس قابل نہیں کہ ملکہ بن سکے۔”
مگر شہزادے نے اسے بلانے کا حکم دیا۔
سنڈریلا آئی۔
اس نے پہلے اپنے ہاتھ دھوئے، پھر شہزادے کے سامنے جا کر جھک گئی۔
شہزادے نے سنہری جوتا اس کی طرف بڑھایا۔
سنڈریلا نے جوتا پہنا۔
وہ بالکل اس کے پاؤں میں آ گیا۔
پھر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
شہزادے نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا اور فوراً اسے پہچان لیا۔
“یہی وہ لڑکی ہے جس کے ساتھ میں نے رقص کیا تھا!”
اسی لمحے درخت پر بیٹھی فاختائیں اڑ کر نیچے آئیں اور سنڈریلا کے دونوں کندھوں پر آ بیٹھیں۔
شہزادہ اسے اپنے ساتھ لے گیا۔
اور کچھ ہی عرصے بعد ان دونوں کی شادی ہو گئی۔
شادی کے دن سوتیلی بہنیں بھی آئیں۔
وہ چاہتی تھیں کہ سنڈریلا کی خوشی میں شریک ہو کر اس کا احسان حاصل کریں۔
جب دلہن اور دولہا گرجا گھر کی طرف جا رہے تھے تو بڑی بہن دائیں طرف اور چھوٹی بہن بائیں طرف چل رہی تھی۔
تب فاختاؤں نے آ کر ان کی ایک ایک آنکھ نکال دی۔
واپسی پر بڑی بہن بائیں طرف اور چھوٹی بہن دائیں طرف چل رہی تھی۔
اس بار فاختاؤں نے ان کی دوسری آنکھیں بھی نکال دیں۔
اور یوں اپنی سنگ دلی، حسد اور دھوکے کی سزا کے طور پر وہ ساری عمر اندھی رہیں۔
NOTE: The original text is in the public domain worldwide. Translation, annotations, and formatting may include AI-assisted drafting, with final review and editing by the publisher.
Shabana Mukhtar