Drama Review Urdu | Habs | Episode 17

 

حبس قسط ۱۷ کا تحریری جائزہ اور تبصرہ

 


اس قسط کی شروعات مزے دار رہی۔ بانو اس کے آفس کے لوفر جواد کو اچھی طرح لتاڑ دیتی ہے۔مجھے اتنا مزہ آیا کہ پوچھیں مت۔

بعد میں پیش کرتے وقت پریزنٹیشن میں گڑبڑ ہو جاتی ہے۔ یقیناً اس کے پیچھے جواد کا ہاتھ ہے۔

باسط سخت ثبوتوں کے ساتھ مجرم کو ڈھونڈنے میں بہت جلدی کرتا ہے۔ بانو نے اگرچہ جواد کو معاف کر دیا، لیکن میں اس کی جگہ ہوتی تو اس کو نوکری سے نکلوا کر ہی دم لیتی۔

یہ جواد کو آخری اور آخری وارننگ ہے۔

 

ویسے بھی اچھی بات یہ ہے کہ بانو اپنے کام کے تئیں اپنی بہترین کار کردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ قدسیہ اسے ممکنہ ترقی کی علامت کے طور پر لیتی ہے، لیکن بانو اس بات کو سمجھنے میں بہت جلدی کرتی ہے۔

“بانو نے قدسیہ کو خبردار کیا، “باسط سے پروموشن مانگنے کا سوچنا بھی مت۔

~
یاور کے گھر والے زویا کے لیے بہت ساری چیزیں لے کر آئے ہیں جو سب کو بہت خوش اور پرجوش کر رہے ہیں۔ زویا بھی خوش ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ تمام زیورات اور دوسری چیزیں ہیں جو اسے خوش کرتی ہیں۔ یا پھر اس کے دماغ میں کچھ اور چل رہا ہے۔

~

 

بعد میں، ہم بانو کو اپنی زندگی کے فلسفے پر بات کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

“زندگی کے وار دولت پہ ہی جھیلے جا سکتے ہیں،” بانو کہتی ہے۔

~

عائشہ باسط کو اسے دیکھ کر بہت پریشان ہے – باسط تکلیف میں ہے، قصوروار ہے، توبہ کر رہا ہے، پشیمان ہے۔۔۔ عائشہ باسط کو مشورہ سیتی ہے کہ وہ سعدیہ سے اس کی قبر پر جا کر بات کرے۔ قبر پر جا کر مردہ سے بات کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے، نہیں جانتی، لیکن یہ مجھے ٹھیک نہیں لگا۔۔۔

قبرستان کا منظر انتہائی جذباتی اور رلانے والا تھا۔ اس سین میں فیروز خان اپنے بہترین انداز میں نظر آئے۔ کمال کی اداکاری کی۔

~

یہ قسط اس وقت ختم ہوتی ہے جب زویا عامر کے ساتھ بھاگنے کے لیے گھر سے باہر نکلتی ہے (اس لڑکے کا یہی نام ہے؟) بانو اسے دیکھتی ہے۔ کم از کم کوئی تو جانتا ہے کہ زویا کیا کر رہی ہے۔

تو یہ حبس کے اس ۱۷ ویں قسط کا خلاصہ ہوا۔


تبصرہ

دانیہ انور ہر قسط میں مجھے نئے سرے سے متاثر کرتی ہیں۔ ان کی ایسی تاثراتی آنکھیں مجھے بہت پسند ہیں۔

فیروز خان اور اشنا شاہ کی کیمسٹری بہترین ہے، اور وہ اسکرین پر ایک اچھی جوڑی بناتے ہیں۔

Habs is one of the best Contract Marriage stories ever. If you like Contract Marriage trope, you might like my books: Once Upon a Crush & Once Upon a Contract

~

Until next review, please check out my books on Amazon.

Shabana Mukhtar