یومِ عرفہ

آج ذی الحجہ کی نویں تاریخ ہے، اسے یوم عرفات بھی کہتے ہیں۔ اس دن حاجی کو وقوف عرفات کرنا ہوتا ہے، جو حج کے دوُفرائض میں سے ایک ہے۔

۱۴۴۳ کا یوم عرفہ میں نے میدانِ عرفات کے ایک خیمہ میں گزارا تھا۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ بہت ساری دعائیں مانگنے کے بعد بھی ایک تشنگی سی محسوس ہو رہی تھی، گویا کچھ بھول گیا ہو، کچھ نا مکمل ہو؛ شاید اس لیے کہ مجھے لگتا ہے مجھے دعا مانگنے کا سلیقہ نہیں آتا۔

ہم لوگوں نے دنیا کو اتنا اپنے پیچھے لگا لیا ہے کہ دعا مانگنے کا وقت نہیں ملتا، جب وقت ملتا ہے تو دماغ الجھا ہوتا ہے، دعا مانگنی نہیں آتی۔ مختصر سی دعا مانگ کر ہٹ جاتے ہیں۔

وہاں مکہ کے قیام کی دوران کسی سے سنا تھا، “بڑا در ہے، بڑی صدا لگانی چاہیے”۔ اور یہ بات آج تک مجھے یاد ہے، کتنی آسان سے بات ہے اور ہم اسے کتنی آسانی سے بھول بھی جاتے ہیں۔

ہم نے ناممکن سے ناممکن چیز بھی مانگنے سے گریز نہیں کرنا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی حاجت، دینوی یا دنیاوی، اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کوئی پوری نہیں کر سکتا۔ پہلے بہت ساری تسبیح کرنی ہے، پھر درود، اور آخر میں استغفار۔ اس کے بعد مانگیں، خوب مانگیں، کھل کر مانگیں- سب کے لیے ہدایت مانگیں۔ سیاسی حالات سے پناہ مانگیں۔ امّت کے لیے خیر مانگیں۔ مخصوص نام لے کر دعا مانگیں۔ بلینکٹ پوری قوم کے لیے دعا مانگیں۔ مانگتے رہیں۔

دعاؤں میں میرا بھی حصہ رکھیں۔

شبانہ مختار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *