
سچ ہے! میں اعصابی ہوں، بہت زیادہ اعصابی۔ ہمیشہ سے رہا ہوں۔ مگر آپ مجھے پاگل کیوں کہتے ہیں؟
اس بیماری نے میرے حواس کو کمزور نہیں کیا، بلکہ اور زیادہ تیز کر دیا ہے۔ خاص طور پر میری سماعت۔ میں زمین اور آسمان کی بے شمار آوازیں سن سکتا ہوں۔ جہنم کی بھی بہت سی آوازیں میرے کانوں تک پہنچتی ہیں۔ پھر میں پاگل کیسے ہوا؟
ذرا غور سے سنیے۔ اور دیکھیے کہ میں کس سکون اور ترتیب کے ساتھ آپ کو پوری داستان سناتا ہوں۔
یہ بتانا ناممکن ہے کہ وہ خیال پہلی بار میرے ذہن میں کیسے آیا۔ مگر ایک بار آ گیا تو دن رات میرا پیچھا کرنے لگا۔ میرا کوئی مقصد نہ تھا۔ کوئی ذاتی دشمنی بھی نہ تھی۔ میں اس بوڑھے آدمی سے محبت کرتا تھا۔ اس نے کبھی میرا نقصان نہیں کیا تھا۔ کبھی میری توہین نہیں کی تھی۔ مجھے اس کے مال و دولت سے بھی کوئی لالچ نہ تھا۔
مگر اس کی ایک آنکھ!
ہاں، یہی بات تھی۔
اس کی ایک آنکھ گدھ کی آنکھ جیسی تھی۔ ہلکے نیلے رنگ کی، جس پر ایک دھندلی سی جھلی چڑھی رہتی تھی۔ جب بھی وہ آنکھ مجھ پر پڑتی، میرا خون منجمد ہو جاتا۔ آہستہ آہستہ میرے دل میں یہ ارادہ پیدا ہوا کہ میں اس بوڑھے آدمی کی جان لے لوں تاکہ ہمیشہ کے لیے اس آنکھ سے نجات پا سکوں۔
اب اصل بات سنیے۔
آپ مجھے پاگل سمجھتے ہیں۔ مگر پاگل لوگ کیا جانتے ہیں؟ آپ کو تو میری ذہانت کی داد دینی چاہیے تھی۔ دیکھتے نہیں کہ میں نے کس احتیاط، کس دور اندیشی، کس بناوٹ کے ساتھ اپنے منصوبے پر عمل کیا؟
اس پورے ہفتے میں، جب میں اس بوڑھے آدمی کو مارنے کا ارادہ کیے ہوئے تھا، میں اس کے ساتھ پہلے سے بھی زیادہ نرمی اور محبت سے پیش آتا رہا۔
ہر رات، تقریباً آدھی رات کے وقت، میں اس کے کمرے کا دروازہ آہستگی سے کھولتا۔ اتنی آہستگی سے کہ گھڑی کی سوئی بھی شاید اس سے زیادہ شور کرتی ہو۔
جب دروازہ اتنا کھل جاتا کہ میرا سر اندر جا سکے، تو میں ایک بند لالٹین آگے بڑھاتا۔ ایسی لالٹین جس کے تمام شٹر بند ہوتے تھے تاکہ روشنی کی ایک کرن بھی باہر نہ نکلے۔
پھر میں اپنا سر اندر کرتا۔
آپ ہنسیں گے اگر دیکھیں کہ میں کتنی احتیاط سے سر اندر کرتا تھا۔ آہستہ آہستہ… نہایت آہستہ… تاکہ بوڑھے آدمی کی نیند میں خلل نہ پڑے۔
اپنا پورا سر کمرے کے اندر لے جانے میں مجھے تقریباً ایک گھنٹہ لگ جاتا۔ کوئی پاگل آدمی کیا اتنا صبر کر سکتا ہے؟
اور جب میرا سر اندر ہوتا، میں لالٹین کا شٹر ذرا سا کھولتا۔ اتنا سا کہ روشنی کی ایک باریک، مکڑی کے دھاگے جیسی لکیر نکلتی اور سیدھی اس گدھ جیسی آنکھ پر جا پڑتی۔
یہ میں مسلسل سات راتوں تک کرتا رہا۔
ہر رات، ٹھیک آدھی رات کے وقت۔
مگر آنکھ ہمیشہ بند ہوتی تھی، اور اسی وجہ سے میں اپنا کام نہ کر سکا۔ کیونکہ مجھے اس بوڑھے آدمی سے نفرت نہ تھی، بلکہ اس کی آنکھ سے تھی۔
اور ہر صبح، میں پورے اعتماد کے ساتھ اس کے کمرے میں داخل ہوتا، خوش دلی سے اس کی خیریت پوچھتا اور رات کے آرام کے بارے میں بات کرتا۔ اسے ذرّہ برابر بھی شک نہ ہوتا کہ ہر رات میں اسے سوتے ہوئے دیکھنے آتا ہوں۔
آٹھویں رات میں پہلے سے بھی زیادہ احتیاط برتی۔
گھڑی کی منٹ والی سوئی بھی شاید اتنی نرمی سے نہ چلتی ہو جتنی نرمی سے میں حرکت کر رہا تھا۔
میری ہوشیاری پر مجھے خود فخر محسوس ہو رہا تھا۔ میں بمشکل مسکرا دینے سے خود کو روک پا رہا تھا۔
شاید اسی لمحے میرے منہ سے ہلکی سی آواز نکل گئی، کیونکہ اچانک بوڑھا آدمی بستر پر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور پکارا:
“کون ہے؟”
میں بالکل ساکت کھڑا رہا۔
ایک لفظ بھی نہیں بولا۔
پورے ایک گھنٹے تک میں اپنی جگہ سے نہ ہلا، اور اس دوران مجھے وہ دوبارہ لیٹتا ہوا سنائی نہ دیا۔ وہ اب بھی بستر پر بیٹھا سن رہا تھا، بالکل اسی طرح جیسے کئی راتوں سے میں دیوار کے پیچھے موت کی آہٹیں سنتا آیا تھا۔
پھر ایک آہ میرے کانوں میں پڑی۔
میں اس آواز کو خوب پہچانتا تھا۔
یہ دہشت کی آہ تھی۔
یہ غم یا افسوس کی آہ نہ تھی، بلکہ اس خوف کی جو روح کی گہرائیوں سے اٹھتا ہے جب انسان خود کو کسی انجانے خطرے کے رحم و کرم پر محسوس کرے۔
مجھے اس بوڑھے آدمی پر ترس بھی آیا، اگرچہ میرے دل میں ایک عجیب سی مسرت بھی تھی۔
میں جانتا تھا کہ وہ جاگ رہا ہے۔ وہ کافی دیر سے جاگ رہا تھا۔ اس کے خوف میں ہر لمحہ اضافہ ہو رہا تھا۔
وہ اپنے آپ کو تسلی دینے کی کوشش کر رہا ہوگا۔
:شاید سوچ رہا ہو
“…یہ صرف ہوا کی آواز ہے”
:یا
“کوئی چوہا دوڑا ہوگا…”
:یا پھر
“کوئی جھینگر بول رہا ہوگا…”
مگر یہ تمام تسلیاں بے کار تھیں۔
کیونکہ موت، اپنے سیاہ سایہ دار قدموں کے ساتھ، اس کے قریب آ پہنچی تھی۔
میں کافی دیر تک بالکل خاموش کھڑا رہا اور کچھ نہ کیا۔ پھر میں نے لالٹین کا شٹر ذرا سا کھولا، نہایت احتیاط سے، نہایت آہستگی سے۔
ایک باریک سی روشنی کی لکیر باہر نکلی اور سیدھی اس گدھ جیسی آنکھ پر جا پڑی۔
آنکھ پوری طرح کھلی ہوئی تھی۔
اور اسے دیکھتے ہی میرے اندر غصے کی ایک لہر دوڑ گئی۔
میں نے اسے صاف صاف دیکھا۔ ہلکے نیلے رنگ کی وہ منحوس آنکھ، جس پر دھندلی سی جھلی چڑھی ہوئی تھی۔ اسے دیکھ کر میرا خون جیسے جم سا گیا۔
مگر مجھے بوڑھے آدمی کے چہرے کا کچھ نظر نہ آیا، کیونکہ روشنی کا رخ میں نے خاص طور پر اسی آنکھ کی طرف رکھا تھا۔
اور کیا میں نے آپ کو نہیں بتایا تھا کہ جسے لوگ پاگل پن سمجھتے ہیں، وہ دراصل حواس کی غیر معمولی تیزی ہے؟
اب میرے کانوں تک ایک مدھم آواز پہنچی۔
بہت دھیمی، بہت ہلکی۔
ایسی آواز جیسی روئی میں لپٹی ہوئی گھڑی پیدا کرتی ہے۔
میں اس آواز کو بھی خوب پہچانتا تھا۔
یہ بوڑھے آدمی کے دل کی دھڑکن تھی۔
اس آواز نے میرے جوش و خروش میں اضافہ کر دیا، بالکل اسی طرح جیسے جنگ کا ڈھول سپاہی کے حوصلے بلند کر دیتا ہے۔
مگر میں پھر بھی اپنی جگہ ساکت کھڑا رہا۔
میں نے حرکت نہ کی۔
میں نے روشنی کو اسی طرح آنکھ پر جمائے رکھا۔
اور اسی دوران دل کی دھڑکن مسلسل تیز ہوتی گئی۔
چند منٹ اسی طرح گزر گئے، اور دل کی دھڑکن مسلسل تیز ہوتی گئی۔ ہر لمحے اس کی رفتار بڑھ رہی تھی اور آواز بھی بلند ہوتی جا رہی تھی۔
بوڑھے آدمی کا خوف یقیناً انتہا کو پہنچ چکا تھا۔
اس کا دل پہلے سے کہیں زیادہ زور سے دھڑک رہا تھا۔
اور پھر بھی میں خاموش کھڑا رہا۔
مگر اب اس آواز نے مجھے بے چین کرنا شروع کر دیا۔
کمرے میں مکمل خاموشی تھی، اور رات کی گہری خاموشی میں دل کی دھڑکن مجھے پہلے سے زیادہ واضح سنائی دے رہی تھی۔
میرے اندر ایک نئی گھبراہٹ نے جنم لیا۔
مجھے خیال آیا کہ اگر پڑوسیوں نے یہ آواز سن لی تو؟
بوڑھے آدمی کا وقت آ پہنچا تھا۔
ایک دبی ہوئی چیخ کے ساتھ میں نے لالٹین کا شٹر پوری طرح کھول دیا اور کمرے میں جھپٹ پڑا۔
وہ صرف ایک بار چیخا۔
صرف ایک بار۔
اگلے ہی لمحے میں نے اسے فرش پر گرا دیا اور بھاری بستر اس کے اوپر الٹ دیا۔
اس کے بعد میں کئی منٹ تک مسکراتا رہا، کیونکہ مجھے یقین تھا کہ میرا کام مکمل ہو چکا ہے۔
مگر دل کی دھڑکن ابھی بھی جاری تھی۔
وہ دھیمی تھی، مگر مسلسل۔
میں نے بستر ہٹایا اور اس کی نبض ٹٹولی۔
وہ مر چکا تھا۔
اس کا دل بند ہو چکا تھا۔
اب وہ آنکھ دوبارہ کبھی میری طرف نہیں دیکھ سکتی تھی۔
اگر آپ اب بھی مجھے پاگل سمجھتے ہیں تو اپنی رائے بدل لیں گے جب آپ دیکھیں گے کہ میں نے کتنی سمجھداری سے تمام کام انجام دیا۔
رات ابھی باقی تھی، اور میں تیزی مگر سکون کے ساتھ کام میں لگ گیا۔
سب سے پہلے میں نے لاش کے ٹکڑے کیے۔
میں نے سر، بازو اور ٹانگیں الگ کر دیں۔
پھر کمرے کے فرش کے چند تختے اکھاڑے اور ان کے نیچے تمام اعضا چھپا دیے۔
اس کے بعد میں نے تختے دوبارہ اپنی جگہ لگا دیے، اس مہارت سے کہ کوئی انسانی آنکھ، حتیٰ کہ اس کی آنکھ بھی، کچھ نہ دیکھ سکتی تھی۔
صاف کرنے کو کچھ باقی نہ تھا۔
کوئی داغ نہیں۔
خون کا ایک قطرہ بھی نہیں۔
میں نے ہر بات کا خیال رکھا تھا۔
ایک ٹب نے سارا کام آسان کر دیا تھا۔
جب میں یہ سب مکمل کر چکا تو گھڑی میں چار بج رہے تھے، مگر باہر ابھی اندھیرا تھا۔
اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی۔
میں پورے اطمینان کے ساتھ دروازہ کھولنے گیا، کیونکہ اب مجھے کس بات کا خوف ہو سکتا تھا؟
سامنے تین پولیس افسر کھڑے تھے۔
رات کے وقت ایک چیخ سن کر کسی پڑوسی نے شکایت کی تھی۔
ان افسران کو تفتیش کے لیے بھیجا گیا تھا۔
میں مسکرایا اور انہیں اندر آنے کی دعوت دی۔
میں نے بتایا کہ چیخ میری اپنی تھی۔ خواب میں اچانک گھبرا کر میری آنکھ کھل گئی تھی۔
میں نے یہ بھی کہا کہ بوڑھا آدمی شہر سے باہر گیا ہوا ہے۔
پھر میں نے انہیں پورا گھر دکھایا۔
میں نے انہیں ہر کمرہ دیکھنے دیا۔
میں اس قدر پراعتماد تھا کہ آخرکار انہیں اسی کمرے میں لے آیا جہاں لاش دفن تھی۔
میں نے ان کے لیے کرسیاں رکھ دیں اور اپنی کرسی عین اس جگہ پر رکھ دی جہاں فرش کے نیچے بوڑھے آدمی کے جسم کے ٹکڑے چھپے ہوئے تھے۔
افسر مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔
وہ بیٹھ گئے اور خوش دلی سے گفتگو کرنے لگے۔
میں بھی ان کے سوالات کے جواب پوری روانی سے دیتا رہا۔
شروع میں میں بالکل پرسکون تھا۔
مگر کچھ ہی دیر بعد میرے کانوں میں ایک آواز پڑنے لگی۔
بہت مدھم۔
بہت دھیمی۔
ایسی آواز جیسی روئی میں لپٹی ہوئی گھڑی پیدا کرتی ہے۔
میں چونک اٹھا۔
میں اس آواز کو پہچانتا تھا۔
یہ وہی آواز تھی۔
دل کی دھڑکن۔
میں نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی اور گفتگو جاری رکھی، مگر آواز مسلسل واضح ہوتی جا رہی تھی۔
وہ آہستہ آہستہ بلند ہونے لگی۔
میرا رنگ فق پڑ گیا۔
میں زیادہ تیزی سے بولنے لگا۔
افسر اب بھی مسکرا رہے تھے اور آرام سے باتیں کر رہے تھے۔
کیا وہ یہ آواز نہیں سن رہے تھے؟
میں نے خود کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ یہ محض میرا وہم ہے۔
مگر آواز مسلسل بڑھتی گئی۔
بلند تر۔
اور بلند تر۔
اور پھر اس سے بھی بلند۔
میرا دل بے چینی سے بھر گیا۔
میں کرسی پر پہلو بدلنے لگا۔
فرش پر قدم رگڑنے لگا۔
فضول باتیں کرنے لگا۔
مگر آواز ہر چیز پر غالب آتی جا رہی تھی۔
وہ اب ایک مسلسل دھڑ دھڑ کی صورت اختیار کر چکی تھی۔
جیسے کسی کپڑے میں لپٹا ہوا ڈھول پوری قوت سے بج رہا ہو۔
اب مجھے یقین ہو گیا کہ افسر بھی اسے سن رہے ہیں۔
وہ ضرور سن رہے تھے۔
اور پھر بھی سکون سے بیٹھے مسکرا رہے تھے۔
گفتگو کر رہے تھے۔
گویا میرا مذاق اڑا رہے ہوں۔
کیا یہ ممکن تھا؟
نہیں!
!وہ سن رہے تھے
!وہ جانتے تھے
!انہیں سب معلوم تھا
!اور وہ میری اذیت سے لطف اندوز ہو رہے تھے
میں اب مزید برداشت نہیں کر سکتا تھا۔
آواز بلند تر ہوتی گئی۔
!بلند تر
!بلند تر
“بدبختو!” آخرکار میں چیخ اٹھا، “اب یہ ڈھونگ بند کرو! میں اقرار کرتا ہوں!”
“!فرش کے تختے اکھاڑ دو”
“!یہیں ہے”
“!یہیں اس کے دل کی وہ منحوس دھڑکن جاری ہے”
NOTE: The original text is in the public domain worldwide. Translation, annotations, and formatting may include AI-assisted drafting, with final review and editing by the publisher.
Shabana Mukhtar